Transcript
1 turns · 19 minالحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی رسولہ الکریم۔ اما بعد، فقد قال اللہ تعالیٰ فی کلامہ المجید، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، و رفعنا لک ذکرک صدق اللہ العظیم، اللہم رب اشرح لی صدری و یسر لی امری و احلل عقدة من لسانی یفقه قولی۔ الحمد للہ شمائل محمدیہ کے دروس کے سلسلے میں ہم شمائل ترمذی جو ہے اس کے چالیسویں chapter پر ہیں اور اس میں چونکہ احادیث زیادہ ہیں یعنی تقریباً چوبیس حدیثیں ہیں اس ایک chapter میں، تو اس کو ہم نے شروع میں طے کیا تھا کہ تقسیم کر کے اس chapter کو پڑھیں گے تو پہلے session میں نے جو پچھلا جمعرات تھا اس میں ہم نے آٹھ حدیثیں پڑھی تھیں اور اس باب کا جو عنوان ہے وہ ہے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی عبادت کیسی تھی؟ باب ماجاء فی عبادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو وہ جو عبادت نبی علیہ الصلوۃ والسلام آہ کرتے تھے خصوصاً اس باب میں رات کی عبادت کا ذکر ہے یعنی جو تہجد کی نماز ہے اس کا زیادہ ذکر ہے۔ لیکن اس کا جو خلاصہ پورے باب کا وہ یہ ہے کہ کیسے آپ علیہ الصلوۃ والسلام طویل نفل پڑھا کرتے تھے اور راتوں کو اٹھ کر جو مجاہدہ کیا کرتے تھے اور عبادت جو مقصود ہے انسانوں کو دنیا میں بھیجنے کا، اس سے کبھی بھی غافل نہیں رہنا چاہیے اور خاص طور پر جو نماز ہے، آج ایک جگہ ایک پوسٹ آئی بلکہ وہ اصلاحی مجلس کے گروپ میں ہم نے share بھی کی تھی، سبحان اللہ! کسی نے کہا کہ اگر نماز نہ ہوتی، حضرت نظام الدین اولیاء رحم اللہ کا یہ قول تھا، میں واقعہ پڑھ کے سنا دیتا ہوں۔ نے کہا کہ حضرت نظام الدین اولیاء رحم اللہ یہ جملہ کہا کرتے تھے کہ "ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا" اتنا فرما کے پھر غش کھا جاتے، ایک دن مریدوں نے پوچھا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے کا ماجرا کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑے دھو کر دھوبی اور دھوبن استری کر کے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے، ان کا ایک بیٹا بھی تھا، جوان ہوا تو کپڑے دھونے میں والدین کا ہاتھ بٹانے لگا، تو کپڑوں میں شہزادی کے کپڑے بھی آتے تھے، جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا، اب شہزادی کو دیکھا نہیں ہے لیکن اس کے کپڑے دیکھ کر دھوتے ہوئے اس کے عشق میں مبتلا ہو گیا، محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے طور طریقے بدل گئے، وہ شہزادی کے کپڑے الگ کرتا، انہیں خوب اچھی طرح دھوتا، استری کرنے کے بعد ایک خاص انداز میں طے کر کے رکھتا، سلسلہ چلتا رہا، آخر والدین نے اس تبدیلی کو note کیا اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا۔ یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے۔ والد نے بیٹے کے کپڑے دھونے پر پابندی لگا دی۔ ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا، مگر جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیا اور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔ ادھر کپڑوں کی دھلائی اور طے بندی کا انداز بدلا تو شہزادی نے دھوبن کو بلایا اور پوچھا کہ میرے کپڑے آپ کون دھوتا ہے؟ دھوبن نے جواب دیا شہزادیہ آلیہ میں ہی دھوتی ہوں، انہوں نے کہا پہلے کون دھوتا تھا؟ کہتی میں ہی دھوتی تھی۔ تو شہزادی نے کہا اچھا ذرا کپڑے طے کرو میرے سامنے، تو جب اس نے طے کیے تو ویسی طے نہیں لگی جیسے وہ لڑکا دھوتا کرتا تھا، تو شہزادی نے ذرا ڈانٹا کہ جھوٹ بولتی ہو سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی۔ تو دھوبن نے آخر کار بتا دیا کہ معاملہ کیا ہوا، تو شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی، پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور شاہی بھگی میں سوار ہو کر پھولوں کا ٹوکر بھر کر لائی اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے اور زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا کہ وہ دھوبی کے بچے کی برسی پر