Podcast Episode

Al-Shamāʾil al-Muḥammadiyyah ﷺ | Mawlānā Abdul Basit | Ep.40 | 10/01

Masjid DarusSalam
Oct 1, 202647 minEN-US
Host
ABAbdul Basit

Who’s talking

2 speakers
Abdul Basit47 min · 100%
Speaker 21 sec · 0%

Transcript

3 turns · 47 min
AB
Abdul Basit0:00

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم。 اما بعد فقد قال اللہ تعالی فی کلامہ المجید اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ورفعنا لك ذكرك۔ سنقل اللہ العظيم۔ اللہم رب اشرح لی صدری ويسر لي امری واحلل عقدة من لسانی يفقه قولی۔ شمائل محمدیہ کے الحمدللہ جو دروس کا سلسلہ جاری ہے اس میں آج ان شاء اللہ ہم کوشش کریں گے کہ دو Chapters پڑھ لیں جزاکم اللہ خیر۔ پہلا Chapter وہ چاشت کی نماز صلاة الضحی کے بارے میں ہے جس میں صرف آٹھ احادیث ہیں اور آپ گھبرا گئے ہوں گے کہ دو Chapter پڑھیں گے تو کیا سولہ حدیثیں پڑھنی ہیں؟ لیکن اس سے اگلے Chapter میں صرف ایک حدیث ہے تو اس اعتبار سے ہمارے نو احادیثیں پڑھ کر ہم ان شاء اللہ ہم دو باب مکمل کر لیں گے اور ان احادیث میں عموماً کوئی زیادہ نئی ابہاس نہیں ہے، بہت زیادہ تکرار بھی ہے نہیں، ایک ہی موضوع پر ہے اور اس میں کوئی زیادہ ایسی چیز نہیں کہ بہت زیادہ ہر حدیث میں زیادہ نئی تفصیلات ہوں۔ جیسا کہ پیچھے عرض کیا تھا پچھلے باب جو گزرے ہیں کہ نبی ﷺ کی عبادت کا ذکر چل رہا ہے نوافل کا پہلے رات کی عبادت کا ذکر آیا، پھر اس کے بعد دن میں کون سی نوافل پڑھتے تھے خاص طور پر ایک باب جو امام ترمذی نے قائم کیا وہ چاشت کی نماز کے بارے میں۔ اور یہ چاشت کی نماز جو ہے میں نے عرض کیا تھا پہلے بھی نو نمازوں کا کہ پانچ فرض نمازیں اور چار اگر انسان نفل ساتھ ملا لے تہجد، اشراق، چاشت اور ابوابین۔ تہجد عشاء کی نماز کے بعد وقت شروع ہو جاتا ہے اور پھر طلوع فجر تک رہتا ہے، اس کا اعلی ترین وقت تو یہ ہے کہ انسان رات کا جو آخری حصہ ہے اس میں نماز پڑھے لیکن اگر کسی کو وہ موقع میسر نہ آئے یا عادت نہ ہو تو سونے سے قبل بھی اس کی نیت کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح تہجد کے لیے سونا شرط نہیں ہے۔ کسی کی رات کی Job ہے اور وہ جاگ رہا ہے تو اس وقت بھی کسی درمیان میں کسی وقت تہجد کی نیت سے نفل پڑھی جا سکتی ہے۔ پھر اشراق کا وقت آ گیا جو کہ طلوع فجر کے تقریباً طلوع شمس یعنی سورج نکلنے کے تقریباً پندرہ بیس منٹ کے بعد کا جو وقت ہے اس میں اشراق پڑھی جا سکتی ہے اس کے تقریباً دو ڈھائی گھنٹے بعد چاشت کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو کہ زوال تک رہتا ہے۔ چاشت یا صلاة الضحی صلاة الضحی تو اس حوالے سے کیا حدیث ہے؟ نبی ﷺ نے یہ کب پڑھی اور کتنی تعداد میں پڑھی اس میں مختلف روایات ہیں، چار کا بھی ذکر ہے، چھ کا بھی ذکر ہے، آٹھ کا بھی ذکر ہے اور خلاصہ پورے باب کا یہ ہے کہ آپ ﷺ کبھی پڑھتے تھے، کبھی اس کو چھوڑا بھی ہے۔ دونوں طرح کی ترتیبات رہی ہیں اور زیادہ تر گھر میں پڑھی ہے بعض اوقات ایک اد مرتبہ مسجد میں بھی پڑھی ہے۔ و بسند المقتصل منا الی امام ترمذی قال حدثنا محمود بن غیلان قال حدثنا ابو داؤد الطيالسی قال حدثنا شعبة عن يزيد الرشقی قال سمعت معاذة قالت قلت ل عائشة رضی اللہ تعالی عنہا اکان النبي ﷺ يصلي الضحی؟ قالت نعم اربع رکعات ويزید ما شاء اللہ عز وجل۔ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے معاذہ نے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ یہ صلاة الضحی چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں چار رکعت کم سے کم پڑھتے تھے اور اس سے کبھی زیادہ بھی پڑھ لیتے تھے۔ اب جس کو نماز کی فرض کی بھی عادت نہ ہو یا مشکل سے سنتیں بھی پڑھتا ہو کہ کیا ساری زندگی نماز ہی پڑھنی ہے دن میں کیا اور کام نہیں کرنا؟ لیکن اب یہ عذر جو ہے یہ اس لیے معقول نہیں ہے کہ ان لوگوں سے پوچھو کہ موبائل پہ کتنا ٹائم گزار دیتے ہیں، Job کے اوقات میں کتنا ٹائم گزار دیتے ہیں، مسلمان کو تو ویسے ہی باوضو رہنا چاہیے، Snack Break ہو رہی ہے، پھر چائے لینے جا رہے ہیں، پھر Coffee لینے جا رہے ہیں، پھر Lunch Break ہے، پھر یہ ہے اور پھر تو سارے میں جس کو اس کا ذوق ہو کہ میں نے اللہ سے بھی بیچ میں تعلق قائم کرنا

Showing a preview — retrieve the full transcript via the Exa API.

Powered by the Exa API