Transcript
1 turns · 46 minالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ. الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ وسلم علی رسولہ کریم اما بعد، فقد قال اللہ تعالی فی کلامہ المجید اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم، ورفعنا لک ذکرک صدق اللہ العظیم، اللهم رب اشرح لی صدری ويسر لي امری واحلل عقدة من لسانی يفقهوا قولی۔ الحمد للہ شمعہ محمدیہ کے دروس کے سلسلے میں چالیسواں Chapter جاری ہے اور آج ان شاء اللہ یہ مکمل ہو جائے گا، اس میں چوبیس احادیث ہیں، اٹھارہ ہم کر چکے ہیں اور یہ باب ہے نبی علیہ الصلاة والسلام کی عبادت کے بارے میں، باب ماجاء فی عبادت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اٹھارہ احادیث ہم اس میں کر چکے ہیں، جس میں نبی علیہ الصلاة والسلام کی عموماً نوافل جو عبادت ہے رہی ہیں، خصوصاً تہجد کی اس کے احوال زیادہ ان احادیث میں آئے ہیں اور اس کے علاوہ جو دن کے نوافل تھے اس پر بھی بات ہوئی ہے۔ میں نے آپ لوگوں کے سامنے ایک واقعہ عرض کیا تھا کہ ہمارے ایک استاد محترم مفتی سیف اللہ طوسمی صاحب حفظہ اللہ بہت زبردست عالم ہیں، جامع شید کے جو چوٹی کے علما میں شمار ہوتے ہیں، ان میں سے ایک ہیں۔ تو ان سے ہم نے ایک دفعہ پوچھا کہ قبولیت کے لیے اللہ کے ہاں اپنے آپ کو قبول کروانے کے لیے خدمت کے علاوہ اور کون سے ایسے اعمال ہیں جو کیے جانے چاہئیں، تو ہمارے استاد جی نے فرمایا کہ نو نمازیں پڑھ لیں، اس کی عادت بنا لیں، تو نو نمازوں سے مراد پانچ فرض نمازیں ہیں، اس کے بعد چھٹی تہجد، ساتویں اشراق، آٹھویں چاشت، ان دونوں کے بارے میں آج حدیث آئے گی اور نویں نماز جو ہے وہ ابوابین کے چھ رکعت ہیں جو کہ مغرب کے بعد پڑھے جاتے ہیں، جس کے بارے میں ایک حدیث میں ہے کہ اگر کوئی مغرب کے بعد چھ رکعات پڑھے اس کو بارہ سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔ تو یہ نو نمازوں کی کوئی عادت ڈال لیں تو ان شاء اللہ عند اللہ مقبول ہو جائے گا، تو یہ جو عبادت کے ذریعے مجاہدہ ہے یہ مجاہدے کا وہ مسنون طریقہ ہے جو صحابہ نے اپنایا، نبی علیہ الصلاة والسلام نے سب سے پہلے اپنایا، والذین جاهدوا فینا اللہ فرماتے ہیں جو لوگ میری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہماری راہ میں جو کوشش مشقت اٹھاتے ہیں، لنهدينهم سبلا نا ہم ضرور بالضرور ان کے لیے اپنے راستے کھول لیں گے، راہیں کھول لیں گے، یعنی اپنا تعلق عطا کریں گے، اپنی محبت عطا کریں گے، یہ سارا معاملہ آسان کریں گے، تو اس میں جو سب سے پہلا مجاہدہ عبادات کے ذریعے جو کیا جاتا ہے وہ نوافل ہیں، اسی طریقے سے جو نفلی روزے ہیں کل سے ایام بیض کا بھی کی ابتدا ہو رہی ہے اس کا بھی بہت اہتمام کرنا چاہیے، ہم جب جامع شید میں پڑھتے تھے سبحان اللہ ہمارے محترم معزز مفتی عبد الرحیم صاحب حفظہ اللہ ان کے یہاں بہت پابندی سے ان کے یہاں معمول تھا کہ نوافل یہ روزے رکھواتے تھے، خود بھی رکھتے تھے اور باقاعدہ ہمارے یہاں تو تقریباً ہزار کے قریب طلباء شنے پڑھتے تھے اور اس میں سے تین چار سو یا اس سے زیادہ Resident ہوتے تھے، وہیں پر رہتے تھے، تو باقاعدہ اعلان ہوتا تھا مجھے یاد ہے تیرہ جب ترویم کی رات ہوتی ہے جب اگلے دن روزہ رکھنا ہے تو شه کی نماز کے بعد باقاعدہ اس کی ترغیب طلبہ میں دی جاتی تھی اور اس کے ساتھ اتنے سو طلبہ کا سحری کا انتظام بھی ہوتا تھا، تو پورا اجتماعی ماحول تھا اور حضرت بار بار فرماتے تھے کہ ایک حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ یا حدیث یا کسی اور کا قول نقل کرتے تھے کہ ان ایام بیض کے روزے رکھنے کے نتیجے میں امت میں اتحاد بھی پیدا ہوتا ہے یعنی اس کا ایک فائدہ اتحاد بھی ہے، اتحاد جو ہے وہ یعنی دوریوں کا ختم ہونا اور یہ ساری چیز اور نبی علیہ الصلاة والسلام کی ترتیب رہی سفر میں حضر میں یعنی سفر جب ہوتا تھا تب بھی اور جب مقام پر ہوتے تھے سفر نہیں کرتے تھے تب بھی ان روزوں کا عموماً اہتمام ہوتا تھا، تو اس کا یہ بھی ایک طریقہ ہے مجاہدہ کرنے کا،