Podcast Episode

Al-Shamāʾil al-Muḥammadiyyah ﷺ | Mawlānā Abdul Basit | Ep.38 | 09/17

Masjid DarusSalam
Sep 17, 202645 minEN
Host
ABAbdul Basit

Who’s talking

2 speakers
Abdul Basit45 min · 100%
Speaker 25 sec · 0%

Transcript

5 turns · 45 min
AB
Abdul Basit0:02

بسم الله الرحمن الرحيم، وبالسند المتصل منا إلى إمام الترمذي قال حدثنا هناد قال حدثنا أبو الأحوص عن الأعمش عن إبراهيم عن الأشعث عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل تسع ركعات، وفي قال حدثنا محمود بن غيلان قال حدثنا يحيى بن آدم قال حدثنا سفيان الثوري عن الأعمش نحوه، عائشة رضي الله تعالى عنها فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعت پڑھتے تھے، یہ تہجد کی بات چل رہی ہے اور احناف کے نزدیک یہ نو میں سے چھ رکعت یہ تہجد کی ہیں اور تین رکعت وتر کی ہیں۔ سیدنا عبد اللہ ابن ابی قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کر دیا ایک حدیث میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خود فرمایا کہ چھ اور تین، چھ اور تین یعنی یہ چھ اور تین کا باقاعدہ استعمال فرمایا، اس کی تعین کر دی، پھر کہا یہ حدیث ہم سے رہی ہے۔ وفي قال حدثنا إسحاق بن موسى قال حدثنا معن قال حدثنا مالك عن ابن شهاب عن أروة عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل إحدى عشرة ركعة يوتر منها بواحدة، فإذا فرغ منها افتجع على شقه الأيمن، فرماتی ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہ آپ علیہ السلام رات کو گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں ایک رکعت وتر ہوتی تھی اور جب آپ علیہ السلام لیٹتے تو اپنے دائیں کروٹ پر آرام فرماتے تھے اور پچھلی بار بھی عرض کیا تھا کہ بعضوں کا جب عبادت ظہری بات اتنی لمبی رات عبادت کی جاری ہے تو تھکاوٹ بھی ہو جاتی ہے تو پھر بالکل فجر کی نماز سے کچھ دیر قبل نبی علیہ السلام سستاتے تھے اردو میں جس کو کہتے ہیں سستانا، سستانا آج کے لوگ تو شاید سمجھیں گے ہی نہیں وہ لکھا پڑھا ہوگا پتا نہیں کیا پڑھیں گے اس کو بغیر اعراب کے تو سستانا مطلب کہ انسان لیٹتا ہے نیند سونے کی نیت سے نہیں لیٹتا بس تھوڑا لیٹ جاتا ہے تاکہ تھکاوٹ دور ہو جائے تو بلکہ ایک روایت میں تو شاید ہم نے پڑھا بھی تھا یہ آ جائے گی آگے کہ جب آپ علیہ السلام ورنہ تو دائیں طرف لیٹتے تھے لیکن جب سستانے کے لیے لیٹتے تھے اس طرح نہیں رات کے وقت تو فجر کے قریب تو اپنا سیدھے لیٹتے تھے چت لیٹنا جسے بولتے ہیں اور اپنے جو بازو ہیں وہ پیچھے نہیں اس طریقے سے سر کے نیچے رکھتے تھے اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ابھی اٹھ جانا ہے فوراً زیادہ لمبا نہیں سونا تو یہ اس کا مقصد ہوتا تھا تو یہاں پر فرمایا کہ اپنی دائیں کروٹ پر آرام فرماتے تھے تو اس میں یہ بھی آتا ہے بعض روایات میں کہ فجر کی سنتیں پڑھ کے بھی کبھی آپ علیہ السلام نے اس طرح آرام فرمایا یا کبھی اپنے گھر والوں کے ساتھ گفتگو فرمائی اور آرام فرمایا اور پھر جماعت کے لیے نہیں فجر کی جو جماعت ہے اس کے لیے تشریف لے گئے ساتھ ہی تو تھا گھر مسجد نبوی کے ساتھ ہی تو حجرا تھا تو مختلف روایت اس حوالے سے آپ علیہ السلام کی ترتیب کی ملتی ہیں。 حدیث نمبر تیرہ، وفي قال حدثنا محمد بن المثنى قال حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي حمدت رجل من الأنصار عن رجل من بني عبس عن حذيفة بن اليمان رضی اللہ تعالی عنہ أنه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم من الليل قال فلما دخل في صلاته قال الله أكبر ذو الملكوت وال جبروت والكبرياء والعظمة قال ثم قرأ البقرة ثم رفع ركوعه نحوا من قيامه وكان يقول سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم ثم رفع رأسه فكان قيامه نحوا من ركوعه وكان يقول لربي الحمد لربي الحمد ثم سجد فكان سجوده نحوا من قيامه وكان يقول سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى ثم رفع رأسه فكان ما بين السجدتين نحوا من السجود فكان يقول رب اغفر لي رب اغفر لي حتى قرأ البقرة وآل عمران والنساء والمائدة أو الأنعام شعبة الذي شك في المائدة والأنعام، حذيفة رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک رات آپ علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھی کون سی نماز یعنی

Showing a preview — retrieve the full transcript via the Exa API.

Powered by the Exa API