Podcast Episode

Al-Shamāʾil al-Muḥammadiyyah ﷺ | Mawlānā Abdul Basit | Ep.36 | 09/03

Masjid DarusSalam
Sep 3, 202651 minEN
Host
ABAbdul Basit

Transcript

1 turns · 51 min
AB
Abdul Basit0:05

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ. الحمد لله رب العالمین والصلاة والسلام على رسولہ الکریم. اما بعد، فقد قال اللہ تعالی في كلامہ المجید، اعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، ورفعنا لك ذكرك، صدق اللہ العظيم، اللهم رب اشرح لي صدري ويسر لي امري واحلل عقدة من لساني يفقهوا قولي। پچھلی جو شمائل کے دروس پچھلے چند ہفتوں میں گزرے، وہ ابواب ہم نے پڑھے جن میں نبی علیہ الصلاة والسلام کی راتوں کا ذکر تھا، اس میں نبی علیہ الصلاة والسلام نے جو اپنی family کے ساتھ وقت گزارا کس طریقے سے، ان کی، آ، ان کی، ان، ان کو خوش، enjoy کرانے کے لیے یا محظوظ کرانے کے لیے قصہ خوانی کا بھی سلسلہ رہا، story telling کا اور اس کے بعد پھر ہم نے نبی علیہ الصلاة والسلام کی رات کو سونے کے جو معمولات تھے، کون سی دعائیں وغیرہ پڑھتے تھے، اس پر ہم نے پچھلے ہفتے حدیثیں پڑھیں، الحمد للہ۔ تو اب اس کے بالکل متصل بعد نبی علیہ الصلاة والسلام کی عبادت کا ذکر ہے۔ یہ اس کتاب کا طویل ترین chapters میں سے ایک ہے، اس میں چوبیس حدیثیں ہیں، آج اس میں سے صرف ہم چند پڑھیں گے، تقریباً دس۔ کچھ ایسی ہیں جو repeat ہیں اور ہوں گی، راوی یعنی جو chain of narrators ہے، جو روایات ہیں وہ ان کی تبدیلی کی وجہ سے وہ بار بار آ جاتی ہیں لیکن، آ، ان شاء اللہ کوشش ہوگی کہ دو سے تین دروس میں یہ chapter مکمل ہو جائے۔ تو باب ما جاء في عبادت النبي صلى اللہ علیہ وسلم۔ اللہ تعالی نے قرآن میں جن اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد ہی اپنی عبادت کو بیان فرمایا ہے۔ کہ پیدا اس لیے کیے گئے ہیں کہ میری عبادت کریں۔ اور ظاہری بات ہے کہ انبیاء سب سے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں، وہ اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پہچاننے والے ہوتے ہیں۔ تو اسی لیے ان کی عبادت بھی سب سے بہتر ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کے ہاں اعمال جو ہیں وہ گنے نہیں جاتے بلکہ تولے جاتے ہیں۔ اور عمل میں وزن تب زیادہ ہوتا ہے جتنا اس میں اخلاص ہو گا۔ اور اخلاص اتنا زیادہ ہوتا ہے جتنا اللہ کی پہچان زیادہ ہوتی ہے۔ تو اللہ کی معرفت جتنی ہوگی اتنا اخلاص ہو گا، اتنا استحضار ہو گا، اتنی عبادت میں value زیادہ ہو گی، اس کا وزن زیادہ ہو گا۔ تو سب سے زیادہ دنیا میں اللہ تعالی کی ذات کو پہچاننے والی جو ہستی تھی وہ نبی علیہ الصلاة والسلام کی تھی۔ جن کو اللہ تعالی نے اپنے ہاں عرشوں پر بلا لیا، عرش پر بلا لیا۔ آسمانوں کی سیر کرا دی۔ تو سب سے زیادہ اللہ کو پہچاننے والے نبی علیہ الصلاة والسلام کی ذات ہے۔ تو لہذا سب سے زیادہ اخلاص بھی ان کا اور سب سے بہترین عبادت بھی ان کی ہے۔ ورنہ اگر صرف گنتی پر جائیں تو ممکن ہے کہ، ممکن کیا حقیقت ہے کہ بہت سارے امتیوں کی عبادات گنتی کے اعتبار سے وہ شاید نبی علیہ الصلاة والسلام سے زیادہ ہو جائیں۔ مثال کے طور پر روزہ فرض ہوا مدنی زندگی میں جا کر دوسری ہجری کے قریب۔ تو اب نبی علیہ الصلاة والسلام نے اگر نو یا دس سال صرف رمضان کے روزے رکھے، فرض روزے، اور ہمارے یہاں ایک بندہ اللہ کے فضل سے بالغ ہوتے ہی روزے رکھتا ہے اور اس کو اللہ تعالی لمبی عمر دیتے ہیں، وہ ستر اسی سال جیتا ہے۔ اگر اس نے اسی سال جئے اور پندرہ سے روزے رکھنے شروع کیے تو کتنے بنے؟ تقریباً پینسٹھ سال کے تو روزے رکھے اس نے، تو گنتی کے اعتبار سے کیا زیادہ ہوا؟ ایک امتی کے روزے نبی علیہ الصلاة والسلام کے روزوں سے زیادہ ہو گئے۔ لیکن اللہ کے ہاں گنتی نہیں چلتی، وزن چلتا ہے۔ تو معیار کے اعتبار سے پوری امت کی ساری عبادتیں، پوری دنیا کی عبادتیں ایک طرف اور نبی علیہ الصلاة والسلام کی ایک وقت کی، ایک عبادت ایک طرف، کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے کیونکہ اس میں معرفت، پہچان، استحضار وہ ایسا ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ تو یہ شمائل کا درس ہے جس میں نبی علیہ الصلاة والسلام کے ذاتی اوصاف پر بات ہو رہی ہے، ظاہری شکل و

Showing a preview — retrieve the full transcript via the Exa API.

Powered by the Exa API