Transcript
1 turns · 59 minالسلام علیکم ورحمة الله. بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد لله نحمدہ ونستعینه ونستغفره ونؤمن به ونتوکل عليه و نعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن یضلل فلا هادی له ونشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریك له ونشهد ان سيدنا محمدا عبده ورسوله صلی اللہ علیہ وعلى آله واصحابه ومن تبعهم ودعا بدعوته الى يوم الدين۔ ماشاءاللہ بڑا ہی مبارک موقع ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ ہو رہا ہے۔ حضور کا ذکر جو ہے رحمت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی سے قریب ہونے کا بہت ہی آسان راستہ ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ ہستی ہیں جن کے نام پر امت جمع ہو سکتی ہے۔ تو اس طرح کی مجالس کا منعقد کرنا کہ جس میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا تذکرہ ہو، آپ کے شمائل کا تذکرہ ہو، آپ کے اخلاق کا تذکرہ ہو، آپ کے آل کا، آپ کے اصحاب کا تذکرہ ہو، یہ بہت ہی مبارک مجلسیں ہیں، بہت ہی مبارک جو ہے گھڑیاں ہیں اور مبارک کام ہے۔ امت کو اللہ کے نام پر جمع کرنا، اللہ کے رسول کے نام پر جمع کرنا بہت ہی ضروری کام ہے اور بہت ہی اہم کام ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس طرح کی مجالس میں بار بار شرکت کی اللہ تعالی ہمیں سعادت دے اور اللہ تعالی ہمیں اس سے خوب خوب فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان مجلسوں میں شریک ہونا یہ خود ایک فائدہ ہے۔ حضور کا ذکر کرنا یہ خود ایک فائدہ ہے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا یہ خود ایک فائدہ ہے۔ جتنی جتنی دفعہ آپ نام سنتے جائیں گے، درود پڑھتے جائیں گے صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم بڑا آسان کام ہے۔ ایک دفعہ درود پڑھیں گے اللہ تعالی جو ہے دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ اور کیا چاہیے آپ کو؟ ان اللہ وملائکۃ یصلون على النبي یا ایھا الذین آمنوا صلوا عليه وسلم تسلیما اللہم صل على سيدنا محمد عبدک ورسولک النبی الامی و على آلہ وصحبہ وسلم۔ آج جو موضوع دیا گیا ہے بڑا ہی اہم ہے، بڑا ہی نازک ہے اور بڑا ہی sensitive ہے。 ہر زمانے میں۔ جی صحیح صحیح صحیح نہیں ضروری ہے۔ ہاں جی ہر زمانے میں کچھ خاص باتیں ہوتی ہیں جو حالات کے تقاضے سے، وقت کی نزاکت سے اہم ہو جاتی ہیں۔ دین کی ہر بات اہم ہے۔ دین میں جتنی باتیں ہیں سب ضروری ہیں، سب اہم ہیں۔ مگر بعض بعض موقعوں پر، بعض بعض جگہوں پر، بعض بعض حالات میں بعض باتیں زیادہ اہم ہو جاتی ہیں۔ جیسے ایک زمانہ تھا کہ اہل سنت والجماعت کی نشانی یہ بتائی جاتی تھی کہ اہل سنت والجماعت وہ لوگ ہیں جو ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو فضیلت دیتے ہیں۔ اور اہل سنت والجماعت وہ لوگ ہیں جو مسح کرتے ہیں خف پر موزوں پر مسح کرتے ہیں۔ موزوں پر مسح کرنا جو ہے ظاہر ہے کہ عقیدے کا حصہ تو نہیں ہے۔ موزوں پر مسح کرنا ایک شرعی مسئلہ ہے کہ اگر جو ہے leather socks آپ پہنے ہوئے ہیں اور وضو کی حالت میں پہنے ہوئے ہیں تو دوبارہ جب آپ کو وضو کرنا ہے تو بجائے پیر دھونے کے آپ جو ہے مسح کر لیں اس کی گنجائش ہے، اس کے مسائل ہیں، اس کی تفصیل ہے۔ تو اگرچہ کہ ایک جزئی مسئلہ ہے مگر ایک زمانے میں وہ اہل سنت والجماعت کا شعار تھا، اہل سنت والجماعت ہونے کی نشانی تھی کہ بھئی آپ اس کو جائز سمجھتے ہیں، کرنا ضروری نہیں ہے، اس کو آپ جائز سمجھتے ہیں۔ تو ہر زمانے میں کچھ نہ کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو مسلمانوں کو ممتاز کر دیتی ہیں۔ اس زمانے میں جو چیز مسلمانوں کو ممتاز کر سکتی ہے اور کرتی ہے وہ ہے مسلمانوں کے پاس عفت اور حیا۔ پاک دامنی جس کو بولتے ہیں آپ عفت اور حیا۔ عفت اور حیا ایک ایسا مضمون ہے اور ایک ایسی صفت ہے جو مسلمانوں کو ممتاز کرتی ہے اس زمانے میں غیروں سے۔ یہ اتنی اہم بات ہے کہ اگر کسی کو سمجھ میں آ جائے کہ بھائی مسلمان کون ہے تو بھائی مسلمان وہ ہے جو عفیف ہے۔ مسلمان کون ہے؟ مسلمان وہ ہے جو